27 اگست 1947ء میں شائع ہونے والی رالف ایزارڈ کی اہم رپورٹ جس میں تقسیم ہندوستان کے چشم دید واقعات کا تجزیہ کیا گیا ہے
تقسیم ہندوستان کا نام آتے ہی چودہ یا پندرہ اگست 1947ء کا ہنگامہ خیز دن ذہن میں آتا ہے۔ اگرچہ ان تواریخ کو تقسیم کے حوالے سے ایک نوع کی قطعی و مرکزی حیثیت حاصل ہے، لیکن بٹوارے کی عملی صورت حال خاصی پیچیدہ اور اضافی (Relative) ہے۔ ہر شخص اور خاندان کی ہجرت کی اپنی تاریخ ہے۔ نو زایدہ ملکوں میں ہجرت کا سرکاری سلسلہ جنوری 1948ء تک جاری رہا۔ اگرچہ اس کے بعد بھی کئی سالوں تک انفرادی نقل مکانی ہوتی رہی لیکن سرکاری مشینری کا استعمال 1948ء تک کیا گیا۔ جمنا داس اختر (2009ء-1916ء) نے اپنے لاہور کے روزنامچے پر آخری صفحہ 30 ستمبر 1947ء کی سرخی کے ساتھ لکھا ہے:
” ٹرک تیزی سے لاہور شہر سے سرحد کی طرف جا رہا ہے۔ اس پر چاروں طرف پردے لگے ہوئے ہیں اور ہمیں اجازت نہیں ہے کہ جھانک کر دیکھ سکیں۔ ٹرک کی چھت پر بندوق کے تانے ہوئے فوجی سپاہی بیٹھے ہیں اور ہجوم کے نعروں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔“
جمنا داس کا یہ روزنامچہ 6 مارچ 1947ء سے 30 ستمبر 1947ء کے درمیانی ساڑھے چھ مہینوں کے لاہور اور راولپنڈی کی اہم روداد ہے۔ جمنا داس لاہور کے معروف روزنامے جے ہند کے مدیر تھے۔ جے ہند کا دفتر نسبت روڈ پر میو ہسپتال کے مشرق اور عرب ہوٹل کے جنوب میں واقع تھا۔ یہ علاقہ سیاسی سرگرمیوں کا گڑھ تھا۔
اگست سینتالیس کے ناگفتہ بہ حالات کے بعد جمنا داس اپنے کئی ساتھیوں کے ساتھ ہندو کیمپ (دی اے وی کالج ہاسٹل) میں اٹھ آئے۔ ایک مہینہ کیمپ کی مشکل اور محبوس زندگی گزاری اور چوری چھپے، بھیس بدل کر لاہور کے حالات کو بہ نظر غائر دیکھتے رہے۔ جمنا داس کا ذاتی گھر کیمپ کے قریب کی نئی آبادی کرشن نگر میں واقع تھا۔ لیکن حالات ایسے خراب تھے کہ انھیں گھر کو پلٹنے کا موقع بھی شاذ ہی ملا۔
ظاہر ہے، تقسیم کے آس پاس کا زمانہ ایسا پر آشوب تھا کہ کیفیت و کمیت سے قطع نظر ہمیں روداد نگاروں کا ممنونِ احسان ہونا چاہیے۔ اخباروں میں جانب داری عروج پر تھی۔ لاہور کے ہندی اخباروں کے فائل مکمل طور غائب ہو چکے ہیں۔ اردو اخباروں کی فائلوں میں بھی تسلسل نہیں ملتا۔
مثال کے طور پر ”انقلاب“ کے آدھے سے زیادہ فائل مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ کچھ نجی اداروں کا کہنا ہے، ان کے پاس مکمل آن لائن فائل موجود ہے لیکن وہ اسے مورخین کا عام قارئین کے ساتھ ساجھا کرنے سے کتراتے ہیں۔
تقسیم کے دوران بلوے ایسے شہر گیر تھے کہ پولیس کچہری کی نوبت کم پیش آئی۔ اکا دکا جو رپورٹیں درج بھی ہوئیں ان کا ریکارڈ بھی کاملا غائب ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے سرکاری اعداد و شمار بے حد کم ملتے ہیں۔ جتنی تفصیلات میسر ہیں، وہ ذاتی و انفرادی کوائف کے ذریعے مرتب کی گئی ہیں۔ البتہ چند برطانوی اور غیر ملکی صحافیوں نے بھی ذاتی موجودگی کی بنیاد پر تقسیم کے چشم دید واقعات کو مرتب کر کے رپورٹیں تیار کیں۔ اگرچہ یہ بھی جانب داری سے مکمل طور پر خالی نہیں ہیں۔ لیکن ان کی اہمیت سے بہ ہر حال انکار نہیں کیا جا سکتا۔
ان سرکاری اعداد و شمار میں رالف ایزارڈ (Ralph Izzard: 1910 -1992) کی رپورٹ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ایزارڈ برطانوی صحافت کے معروف غیر ملکی نامہ نگار، مصنف، مُہم جو اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران برطانوی بحری انٹیلی جنس سے وابستہ افسر تھے۔ وہ کیمرج کے تعلیم یافتہ تھے۔ ایرارڈ پوری زندگی Daily Mail سے وابستہ رہے۔ ڈیلی میل کی جانب سے انھیں اگست سینتالیس میں تقسیم ہند کے واقعات کو بہ چشم ہوش دیکھنے اور قلم بند کرنے کی غرض سے بھیجا گیا۔ ایزارڈ نے 22 سے 23 اگست 1947ء کو کراچی سے لاہور کی ٹرین میں سفر کیا اور اپنے آنکھوں دیکھے واقعات مرتب کیے۔
رالف ایرزرڈ کی رپورٹ 27 اگست 1947ء کو ڈیلی میل میں بہ عنوان
Indian Massacres Grow: Every Station is Site for New Battle
شائع ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق کراچی سے لاہور جانے والی ٹرین جب پنجاب کے معروف شہر مونٹگمری (موجودہ ساہیوال) پہنچی تو ایزارڈ کو پہلی بار حالات کی سنگینی کا احساس ہوا۔ ایزارڈ کے مطابق، پلیٹ فارم ہندو اور سکھ مہاجرین سے بھرا ہوا تھا۔ ان میں سے بیشتر تین دن سے پلیٹ فارم پر موجود تھے۔ ہندوستان جانے والی ٹرینوں میں غیر معمولی تعطل آیا ہوا تھا۔ ایزارڈ کے مطابق سب سے پریشان کن منظر سٹیشن پر کھڑی ایک خصوصی ٹرین تھی۔ یہ ٹرین پانچ دن سے سٹیشن پر تھی اور لوگ اس کی چھتوں اور ڈبوں سے یوں چمٹے تھے گویا حشرات الارض ہوں۔ رفع حاجت کی صورت حال غیر انسانی تھی۔ ایزارڈ کی ٹرین کے مسلمان ڈرائیور سے بھی بات ہوئی۔ ڈرائیور پر فیروز پور جانے کے خوف سے کپکپی طاری تھی۔ ایزارڈ لکھتا ہے، یہ چھوٹا اور غیر معمولی واقعہ خوف کی شدت کو پوری طرح واضح کرتا ہے۔ مونٹگمری کے بعد ٹرین اوکاڑہ اسٹیشن پہنچی۔ یہاں ایزارڈ نے ایک غیر معمولی منظر دیکھا۔ مقامی Birla textile mills کے تقریباً پانچ ہزار خوف زدہ ہندو اور سکھ مزدور ٹرین کی طرف دوڑ پڑے۔ ٹرین میں جگہ نہیں تھی، لیکن خوف نے جگہ کی ضرورت ختم کر دی تھی۔ ایزارڈ کے مطابق چالیس افراد ایسے کمپارٹمنٹ میں گھس آئے جو محض چھ افراد کے لیے بنایا گیا تھا۔ ظاہر ہے، یہ نقشہ صرف اژدحام کی نہیں، اضطراب کی شدت بھی ظاہر کرتا ہے۔ لوگ جانتے تھے، اگر یہ ٹرین نکل گئی تو شاید اگلی ٹرین پرلوک کی ہو۔ اوکاڑہ سے نکلنے کے بعد ٹرین نے کافی فاصلہ طے کیا۔ رستے میں بلوائیوں کے چھوٹے چھوٹے گروہ حملہ کرتے رہے۔
بانوے کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ٹرین رائے ونڈ پہنچی۔ یہاں ایزارڈ کو ہندوستان سے آنے والے مسلمان مہاجرین نظر آنے لگے۔ یہ انتہائی معنی خیز تبدیلی تھی۔ تاریخ ایک ہی ریلوے لائن پر دو سمتوں میں حرکت کر رہی تھی۔ دونوں گروہوں پر ایک ہی کیفیت طاری تھی جو ایزارڈ کے لفظوں میں ”خوف، حیرت، بے یقینی اور بدحواسی“ جیسے عناصر سے عبارت تھی۔
آخرکار ٹرین لاہور پہنچی۔ لاہور کا پلیٹ فارم ہندوستان سے آنے والے مسلمان مہاجرین سے بھرا ہوا تھا۔
ایزارڈ کے لاہور پہنچنے سے پہلے ایک ایسا واقعہ رونما ہو چکا تھا جس نے سفر کے خوفناک پس منظر کو مزید گہرا کر دیا۔
ایزارڈ نے لاہور پہنچنے سے ایک یا دو دن پہلے دہلی سے لاہور آنے والی 15 Up نامی ٹرین کا ذکر کیا ہے۔ نو کوچز پر مشتمل اس ٹرین میں کم از کم ایک ہزار افراد کی گنجائش تھی۔ لاہور پہنچنے میں اس ٹرین کو سات گھنٹے کی تاخیر ہوئی۔ Up 15 لاہور پہنچی تو اس میں باقی بچ جانے والے مسلمانوں کی تعداد صرف آٹھ تھی۔ ہزار میں سے صرف آٹھ۔ یہ آٹھ لوگ بھی زخموں سے چور چور اور شکستہ تھے۔ ان میں سے ایک آدمی سے گفتگو کے دوران ایزارڈ کو معلوم ہوا کہ کس طرح چاقو، چھریاں، تلواریں، برچھے اور ڈنڈے استعمال کرتے ہوئے پوری ٹرین کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
اردو تحقیق اور تحریروں میں رالف ایزارڈ کی اس رپورٹ کو کم استعمال کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ ہندو مسلم بیانیوں کے برخلاف نسبتاً غیر جانب دار موقف پیش کرتی ہے۔ ملحوظ رہے رالف ایزارڈ کی رپورٹ کسی ایک شہر کے فساد کی رپورٹ نہیں ہے۔ اس کی اصل اہمیت کراچی سے لاہور کے درمیان کے سفر میں تقسیم کے انسانی بحران کی مختلف شکلوں کا اظہار ہے۔ اگرچہ رالف ایزارڈ کو دوسری جنگ عظیم کی ہول ناکیوں کو بہ راہ راست دیکھنے کا موقع بھی ملا تھا، لیکن وہ اپنے ہر انٹرویو میں تقسیم ہندوستان کو انسانی تاریخ کے خوف ناک ترین المیے کے الفاظ سے یاد کرتا رہا۔
